Posts

Showing posts from March, 2018

الحمد للہ میں صاحب ترتیب ہوں

*الحمد للہ میں صاحب ترتیب ہوں*        *محمد قمرالزماں ندوی* *مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ* *مولانا الیاس بٹھکلی ندوی* نوجوان عالم دین، مشہور صاحب قلم، داعی دین اور مبلغ و مصنف ہیں،ہندوستان کے ممتاز اور منفرد صاحب قلم میں سے ایک ہیں واقعات سے تجزیہ کرنا اور ان سے مفید اور مطلب کی چیز اور پیغام اخذ کرنے کی ان کے اندر زبردست صلاحیت اور ملکہ ہے ۔ انہوں نے *سلطان ٹیپو شہید* رح کی شخصیت پر ایک جامع اور وقیع کتاب تصنیف کی ہے ۔ جس کا نام *سیرت سلطان ٹیپو* ہے اس کتاب میں انہوں نے *سلطان ٹیپو* کی سیرت و سوانح ، دینی مزاج ،اخلاق و کردار اور حیات مستعار کے انگنت پہلو کا تذکرہ کیا ہے ۔ ایک جگہ ان کی سیرت اور دینی مزاج کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا موصوف لکھتے ہیں : ۰۰ اس کی دین داری و تقوی کا یہ عالم تھا کہ جنگوں میں مصروف رہنے کے باوجود بلوغ کے بعد اس کی کوئ نماز قضا نہیں ہوئ ،جنگ کے ایام ہوں یا اس کے علاوہ ،اس نے فجر بعد کی تلاوت کا کبھی ناغہ نہیں کیا ،باوضو رہنے کا عادی تھا۔ *سری رنگا پٹنم * میں * مسجد اعلی* کے افتتاح کے موقع پر اندورن و بیرون سلطنت کے سینکڑوں ع...

الوداعی ترانہ

'                *::: الوداعی ترانہ :::* دینی مدارس کے فضلاء و فاضلات کے لئے ایک غمگین تحفہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہے دل بےحد یہ افسردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ ہے دل بےحد یہ افسردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ ہے دل بےحد یہ افسردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ نہ کیسے ہوں میں نمدیدہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ ہے دل بےحد یہ افسردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ ہے دل بےحد یہ افسردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ تڑپ جاتا ہے دل میرا تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ لرز جاتا بدن میرا حواسیں گم ہو جاتی ہیں۔  تڑپ جاتا ہے دل میرا تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ لرز جاتا بدن میرا حواسیں گم ہو جاتی ہیں۔ *خبر سن کر یہ آزردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔* ہے دل بےحد یہ افسردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ ہے دل بےحد یہ افسردہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے۔ وہ اک ہی چھت کے سائے اہل خانہ کی طرح رہنا الجھنا بحث کرنا پھر سے بھائیوں کی طرح رہنا وہ اک ہی چھت کے سائے اہل خانہ کی طرح رہنا الجھنا بحث کرنا پھر سے بھائیوں کی طرح رہنا میں توڑوں کیسے یہ رشتہ مدرسہ چھوڑ جانا ہے ...

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کی اہلیہ کا انٹرویو

  شیخ الاسلام مفتی عثمانی دامت برکاتہ کی اہلیہ کا انٹرویو بہت اہم کام کا مضمون ہے ٭٭ سوال: مفتی صاحب نے تمام عمر اسلام کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ہے۔ انھیں عظیم کامیابیاں اس لیے بھی حاصل ہوئیں کہ ان کو گھر میں آپ کا بھرپور تعاون حاصل تھا۔کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ ان کی کیونکر ممدو معاون رہیں؟ جواب: شادی کے پہلے دن ہی میں نے طے کر لیا کہ میں اس طریقے سے گھر کی ذمے داریاں سنبھالوں گی کہ میرے شوہر اپنا سارا وقت دین کی ترقی و ترویج پر صرف کر سکیں۔ یہی امر میرے لیے بہت ثواب کا کام تھا۔ چناںچہ ہماری شادی ہوئے کئی برس ہو چکے، آج بھی گھر کے تمام چھوٹے بڑے امور میں ہی دیکھتی ہوں۔ انھیں کسی گھریلو معاملے مثلاً سودا سلف لانے یا ملبوسات وغیرہ کی خریداری کے سلسلے میں پریشان نہیں کیا جاتا۔ اگر ٹیلی فون کی تار ٹوٹ گئی، تو یہ مسئلہ بھی میں ہی حل کرتی ہوں۔ مقصد یہی ہوتا ہے کہ مفتی صاحب دین کی اشاعت پر بھرپور توجہ دے سکیں۔ اس موقع پر میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اللہ پاک نے مجھے بہترین اور مثالی شریک حیات سے نوازا۔ انھوں نے گھر میں اہل خانہ کو بہترین دینی و دنیاوی ماحول عطاکیا۔ اس پر میں اللہ تعالیٰ ک...

مناظرے ہی مناظرے

*مناظرے ہی مناظرے* عباسیہ حکومت کے آخری دور میں ایک وقت وہ آیا جب مسلمانوں کے دارالخلافہ بغداد ہر دوسرے دن کسی نہ کسی دینی مسئلہ پر *مناظرہ* ہونے لگا جلد ہی وہ وقت بھی آ گیا جب ایک ساتھ ایک ہی دن بغداد کے الگ الگ چوراہوں پر الگ الگ *مناظرے* ہو رہے تھے پہلا *مناظرہ* اس بات پر تھا کہ ایک وقت میں سوئ کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟ دوسرا *مناظرہ* اس اہم موضوع پر تھا کہ کوا حلال ھے یا حرام؟ تیسرے *مناظرے* میں یہ تکرار چل رہی تھی کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہونا چاہیے؟ ایک گروہ کا کہنا تھاکہ ایک بالشت سے کم نہیں ہونا چاہیے اور دوسرے گروہ کا یہ ماننا تھا کہ ایک بالشت سے چھوٹی مسواک بھی جائز ھے ابھی یہ ڈیبیٹ( *مناظرہ*) چل ہی رہی تھی کہ ہلاکو خان کی قیادت میں تاتاری فوج بغداد کی گلیوں میں داخل ہو گئی اور سب کچھ تہس نہس کر گئ مسواک کی حرمت بچانے والے لوگ خود ہی بوٹی بوٹی ہو گئے سوئ کی نوک پر فرشتے گننے والوں کی کھوپڑیوں کے مناریں بن گئے جنہیں گننا بھی ممکن نہ تھا کوے کے گوشت پر بحث کرنے والوں کے مردہ جسم کوے نوچ نوچ کر کھا رہے تھے آج ہلاکو خان کو بغداد تباہ کیئے سینکڑوں برس ہو گئ...

مولوی - ایک خونخوار بھیڑیآ

_ مولوی - ایک خونخوار بھیڑیا ___ آفس بوائے فائلز کا کارٹن باہر لا کر رکھ کے نکل گیا - اور وہ سخت دھوپ میں اکیلی کھڑی ہوگئ، ٹیکسی کے انتظار میں۔ پاس سے گزرتی ٹیکسی کو اس نے روکا ۔ جی میڈم ۔ اندر سے ایک داڑھی والا ڈرائیور بولا۔ اس نے سوچا کہ ٹیکسی والا تو ایک مولوی ہے اسے کہ دیتی ہوں کہ جائیے صاحب لیکن آفس ایک سائیڈ پہ ہونے کی وجہ سے کم ہی ٹیکسی والے ادھر سے گزرتے تھے اور اوپر سے گرمی نے برا حال کیا ہوا تھا اور کوئی راستہ نہ تھا ۔اس نے ڈرائیور سے بولا G9 جانا ہے۔ ڈائیور.. جی بیٹھئیے۔ کتنے پیسے؟؟ 200 دے دیجیئے۔ دل میں خیال آیا اس دن تو 3 سو دے کر گئی تھی. مولوی ہے..  سر تو کہتے ہیں مولوی بہت لالچی ہوتے ہیں۔ ارے سر یہ بھی تو کہتے ہیں ہوس کے مارے ہوتے ہیں اور بھروسے کے قابل نہیں یہ مولوی۔۔ ایک بار تو وہ ڈر گئی لیکن تیز دھوپ اسے زیادہ سوچنے نہیں دے رہی تھی۔ ڈرائیور... میڈم چلیں بیٹھیں 180 دے دیجئے گا۔ جی صحیح لیکن سامنے میری فائلز کا کارٹن ہے، وزنی ہے، اٹھایا نہیں جارہا۔ جی میں رکھ دیتا ہوں آپ بیٹھیے۔ گاڑی چلتے ہی ڈرائیور نے اجازت چاہی،  دراصل میں بیان سن ر...

کڑوا مُلّا

کڑوا مُلّا: بندہ عاجز. محمد عزرائیل ندوی سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃُ اللہ علیہ کی شاہ فیصل سے ملاقات اور عجیب نصیحت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ شاہ فیصل سے ملاقات کیلئے جب ان کے محل تشریف لے گئے، تو محل کی خوبصورتی، اس کی سجاوٹ اور اس کی آرائش و زیبائش دیکھ کر شاہ فیصل سے یوں گویا ہوئے: میں سوچ رہا ہوں اور مجھے یاد آرہا ہے کہ ہمارے ہندوستان میں بھی ایک بادشاہ گذرا ہے، اس کی سلطنت آج کے پورے ہندوستان اور پاکستان پر نہیں بلکہ نیپال، سری لنکا اور افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی، اس نے 52 سال اتنی بڑی سلطنت پر حکومت کی، مگر اقتدار کے 52 سالوں میں سے 20 سال گھوڑے کی پیٹھ پر گذارے، اس کے دور میں مسلمان آزاد تھے، خوشحال تھے، ان کیلئے ہر قسم کی آسانیاں تھیں لیکن بادشاہ کا حال یہ تھا کہ وہ پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا، قرآن مجید کی کتابت کر کے اور ٹوپیاں سی کر اپنا خرچ چلاتا تھا، خزانے کو ﷲ کی اور اس کی مخلوق کی امانت سمجھتا تھا، وہ خود روکھی سوکھی کھاتا، مگر دوسروں کیلئے لنگر چلاتاتھا، وہ خود تنگ دست تھا مگر دوسروں کیلئے موتی لٹاتا تھا، وہ فقیر تھا مگر دل کھول کر غر...

زندگی کے 8 بہترین اسباق

زندگی کے 8 بہترین اسباق کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا، کان پڑی آواز سُنائی نہ دیتی تھی، اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم میں سناٹا چھاگیا ۔ پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں، آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔ ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔ جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔ ⚛ سبق نمبر 1 کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا…. ‘‘تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟’’…. ‘‘یہ ناممکن ہے۔’’، کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘لکیر کو چھو...

ازدواجی زندگی خوشگوار بنانے کے نبوی نسخے اور نصائح

ازدواجی زندگی خوشگوار بنانے کے نبوی نسخے اور نصائح 1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم امی عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں سر مبارک رکھ کر قرآن پڑھتے تھے جبکہ وہ حالت_حیض میں ہوتی تھیں. بخاری:297  ابوداؤد:260 2) نبی صلی اللہ علیہ وسلم امی عائشہ کی ران پر سر مبارک رکھ کر سو جایا کرتے تھے. بخاری:334  سنن نسائی:338 3) نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج میں اپنی بیویوں کا ھاتھ بٹاتے تھے. بخاری:676 4) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی کڑوی کسیلی باتیں اور طرز_عمل خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے. بخاری:2581 اور 4913 5) نبی صلی اللہ علیہ وسلم امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو Nick Name عائش سے پکارتے تھے. بخاری:3768 6) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی بیماری میں بیمار پرسی کرتے تھے. بخاری:4141 7) ایک مرتبہ ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کے ہمراہ تھیں. حدی خوان اونٹوں کو تیز تیز ہانکنے لگا تو آپ نے اسے حکم دیا: آہستہ چلو, آبگینے/شیشے ٹوٹنے نہ پائیں. گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی نرمی کے لیۓ آبگینے کا استعارہ استعمال کیا. بخاری:6149, 6161, 6210...

کاروانِ امن و انصاف کی خدمت میں ایک ترانہ

کاروانِ امن و انصاف کی خدمت میں ایک ترانہ : (منقول) یہ ملک ہندوستان ہماری عزت ہماری جان اور ہماری پہچان ہے۔۔۔۔!! بیش بہا قربانیوں اور عظیم جدوجہد کا ثمر۔۔!!! ہماری زمین ہمارے جوانوں کو اس نازک وقت میں پکار رہی ہے کہ اس دیش کی حالت بدلو،، !! اس ترنگے کے تلے ہم سب جمع ہوکر باہمی نفرت کو بھلا کر سہ رنگی پرچم کو بلند کرتے ہوئے یہی صدا لگائیں ۔۔: امید بنو تعمیر کرو امید بنو تعمیر کرو امید بنو تعمیر کرو سب مل کر ہندوستان کی بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی جب قوم ڈٹی زنجیر کٹی پھر پائی تھی منزل آزادی قاتل سے خنجر چھوٹ گیا صیاد کو بھولی صیادی مایوسی نا امیدی کا انجام تباہی بربادی خوابوں سے نکل تعبیر میں آ تصویر بنے ارمان کی بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی بیدار جوانوں کی غیرت دنیا میں تغیر لاتی ہے جذبات کے شعلوں کی حدت ملت کا لہو گرماتی ہے کرتی ہے جوانوں کو ریزہ فولاد کو یہ پگھلاتی ہے تاریخِ وطن متلاشی ہے غیرت کے اسی عنوان کی بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی تاحدنظر اندھیر نگر سفاک لٹیرے تخت نشیں پامال کیا سلطانوں نے الله نے دی زرخیز زمیں پیچھے ہیں صفِ اق...