الحمد للہ میں صاحب ترتیب ہوں
*الحمد للہ میں صاحب ترتیب ہوں*
*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*
*مولانا الیاس بٹھکلی ندوی* نوجوان عالم دین، مشہور صاحب قلم، داعی دین اور مبلغ و مصنف ہیں،ہندوستان کے ممتاز اور منفرد صاحب قلم میں سے ایک ہیں واقعات سے تجزیہ کرنا اور ان سے مفید اور مطلب کی چیز اور پیغام اخذ کرنے کی ان کے اندر زبردست صلاحیت اور ملکہ ہے ۔ انہوں نے *سلطان ٹیپو شہید* رح کی شخصیت پر ایک جامع اور وقیع کتاب تصنیف کی ہے ۔ جس کا نام *سیرت سلطان ٹیپو* ہے اس کتاب میں انہوں نے *سلطان ٹیپو* کی سیرت و سوانح ، دینی مزاج ،اخلاق و کردار اور حیات مستعار کے انگنت پہلو کا تذکرہ کیا ہے ۔
ایک جگہ ان کی سیرت اور دینی مزاج کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا موصوف لکھتے ہیں :
۰۰ اس کی دین داری و تقوی کا یہ عالم تھا کہ جنگوں میں مصروف رہنے کے باوجود بلوغ کے بعد اس کی کوئ نماز قضا نہیں ہوئ ،جنگ کے ایام ہوں یا اس کے علاوہ ،اس نے فجر بعد کی تلاوت کا کبھی ناغہ نہیں کیا ،باوضو رہنے کا عادی تھا۔
*سری رنگا پٹنم * میں * مسجد اعلی* کے افتتاح کے موقع پر اندورن و بیرون سلطنت کے سینکڑوں علماء وقت کو دعوت دے کر بلایا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ کوئ *صاحب ترتیب* بزرگ پہلی امامت کریں گے، لیکن جب موقع آیا تو کوئ عالم یا بزرگ اپنے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکا کہ وہ ۔ *صاحب ترتیب ۔ ہے جب پورے مجمع سے ایک شخص بھی *صاحب ترتیب* نہیں نکلا تو *سلطان ٹیپو* خود آگے بڑھے اور کہا * *الحمدللہ میں صاحب ترتیب ہوں* (سیرت سلطان ٹیپو)
محترم قارئین باتمکین!
اس واقعہ میں ہم تمام لوگوں کے لئے خاص طور طبقئہ علماء کے لئے زبرسدت سبق اور عبرت ہے کہ وہ عالمگیر خلافت اور اقتدار کی کرسی پر متمکن ہونے کے بعد بھی صاحب ترتیب تھے اور ہم لوگوں یعنی قال اللہ و قال الرسول کی صدا لگانے والوں کی پنج وقتہ نماز کی جماعت کے ساتھ پابندی بھی بہت مشکل ہے ۔ ہم لوگوں کی نگاہ کو کھولنے اور دلوں کو جھنجھوڑنے اور اپیل کرنے کے لئے اس واقعہ میں بہت کچھ سبق اور عبرت موجود ہے کاش ہم اس واقعہ سے سبق لے کر اپنی زندگی میں بھی ایک انقلاب برپا کرلیں اور ہر شخص صاحب ترتیب بننے کی فکر کر لیں ۔
Comments
Post a Comment