کاروانِ امن و انصاف کی خدمت میں ایک ترانہ

کاروانِ امن و انصاف کی خدمت میں ایک ترانہ:
(منقول)

یہ ملک ہندوستان ہماری عزت ہماری جان اور ہماری پہچان ہے۔۔۔۔!!
بیش بہا قربانیوں اور عظیم جدوجہد کا ثمر۔۔!!!
ہماری زمین ہمارے جوانوں کو اس نازک وقت میں پکار رہی ہے کہ اس دیش کی حالت بدلو،، !!
اس ترنگے کے تلے ہم سب جمع ہوکر باہمی نفرت کو بھلا کر سہ رنگی پرچم کو بلند کرتے ہوئے یہی صدا لگائیں ۔۔:


امید بنو تعمیر کرو امید بنو تعمیر کرو
امید بنو تعمیر کرو سب مل کر ہندوستان کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

جب قوم ڈٹی زنجیر کٹی پھر پائی تھی منزل آزادی
قاتل سے خنجر چھوٹ گیا صیاد کو بھولی صیادی
مایوسی نا امیدی کا انجام تباہی بربادی
خوابوں سے نکل تعبیر میں آ تصویر بنے ارمان کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

بیدار جوانوں کی غیرت دنیا میں تغیر لاتی ہے
جذبات کے شعلوں کی حدت ملت کا لہو گرماتی ہے
کرتی ہے جوانوں کو ریزہ فولاد کو یہ پگھلاتی ہے
تاریخِ وطن متلاشی ہے غیرت کے اسی عنوان کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

تاحدنظر اندھیر نگر سفاک لٹیرے تخت نشیں
پامال کیا سلطانوں نے الله نے دی زرخیز زمیں
پیچھے ہیں صفِ اقوام میں ہم تعلیم نہیں تحقیق نہیں
تدبیرِ عمل سے ٹلتی ہے کیفیت ہر بحران کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

غنڈے ہیں غلامی کے سائے پھیلا ہے سوز فضاؤں میں
دھرتی پہ قیامت برپا ہے چیخوں کا شور ہواؤں میں
نا حق لہو کیوں بہتا ہے شہروں قصبات میں گاؤں میں
دھرتی پہ رینگتے کیڑوں سی حیثیت ہے انسان کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

جنگل میں راج درندوں کاطاقت انصاف پہ بھاری ہے
مجبوری کی زنجیریں ہیں مظلوم کی آہ و زاری ہے

سب ظلم کا تانا بانا ہے عیاری ہے مکاری ہے
درپیش ضرورت ملت کو خودداری کے اعلان کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

محنت سے گریزاں قوموں کو ملتی ہے جہاں میں رسوائی
اپناؤ ترقی کا رستہ چھوڑو یہ ندامت پسپائی
معراج انہیں کو ملتی ہے عظمت کے جو لوگ تمنائی
حالات بدل تقدیر بنا کر فکر ذرا نقصان کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

اٹھ میرے جواں مشکل سے نا ڈر جذبوں کا جگا میدان میں آ
نفرت کو مٹا دل دل سے ملا پیغامِ وفا دستور بنا
خطرات سے لڑ موجوں سے الجھ طوفان کے رخ کو موڑ دکھا
مت بیچ خودی ذلت نا دکھا خیرات نا لے شیطان کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

اسلام کے دامنِ رحمت میں دکھ درد کے مارو آ جاؤ
سرکارِ دو عالم کا پرچم ہر حال فضا میں لہراؤ
تم فتح مبین کے وارث ہو دنیا کے افق پر چھا جاؤ
گھبراؤ نہیں مردانِ یقیں نصرت ہے رب رحمٰن کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی

افضال جوانوں کو قومی امید بنا کر دم لیں گے
تخریب کے پھٹتے گولوں میں تعمیر اٹھا کر دم لیں گے
مایوسی کے زندانوں سے ملت کو اٹھا کر دم لیں گے
روشن ہے ہمارا مستقبل ہے روشنیاں قرآن کی
بازو ہے قوی ہمت ہے جواں دولت بھی ہے ایمان کی



📚انتخاب:
🖋ابودجانہ
کاروانِ امن و انصاف

Comments

Popular posts from this blog